14 مارچ 2013 - 20:30

ايران کے علاقے اراک ميں ، مشرق وسطي کي سب سے بڑي آئل ريفائنري، امام خميني آئل ريفائنري کاجمعرات کو افتتاح ہوگيا-

ابنا: اس منصوبے کے افتتاح کے بعد مذکورہ کارخانے ميں تيل کي پيداوار اسي  لاکھ  بيرل يوميہ سے بڑھ کر ايک کروڑ ساٹھ لاکھ بيرل يوميہ ہوجائے گي –اس کے علاوہ اراک کي شازند ريفائنري ميں ڈيزل کي پيداوار اسي لاکھ سے بڑھ کر ايک کڑور بيس لاکھ بيرل يوميہ تک پہنج جائے گي-اس ريفائنري ميں تيار کيا جانے والا پيٹرول يورو فور  اور فائيو اسٹينڈر کے مطابق ہوگا اور اس ريفائنري کے اعلي عہديداروں کا کہنا ہے  کہ يہ ريفائنري ماحوليات کو آلودگي سے بچانے والے سسٹم سے ليس ہے،اس کے علاوہ اس ريفائنري ميں سلفر کو عليحدہ کرنے والے يونٹ کا افتتاح بھي عمل ميں آيا اور جامد سلفر کو پاؤڈر اور کرسٹل شکل ميں تبديل کرنے کا عمل پچاس ٹن يوميہ سے بڑھ کر چھے سو ٹن يوميہ ہوگيا ہے-  شازند کي امام خميني آئيل ريفائنري کي سب سے اہم خصوصيت يہ ہے کہ اس ميں خام تيل صاف کرنے کي گنجائش ايک کروڑ ستر لاکھ بيرل يوميہ سے بڑھ کر دوکروڑ پچآس لاکھ بيرل يوميہ ہوگئي ہے- جبکہ روازنہ تيس لاکھ بيرل سپر پيٹرول تيار کيا جانے لگا ہے،صدر احمدي نژاد نے امام خميني آئيل ريفائنري کے توسيعي منصوبے کا افتتاح کرنے کے بعد  صحافيوں سے بات چيت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوشش اس بات کي کي جانی چاہيے کہ خام تيل برآمد نہ کيا جائے بلکہ تمام کا تمام خام تيل اندرون ملک ريفائنريوں کے ذريعے صاف اور پيٹروکيميکل پروڈکٹ ميں تبديل کيا جائے-اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر نے شازند کي امام خمييني آئل ريفائنري کے عظيم توسييعي منصوبے کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ يہ کام ايراني انجينئروں نے انجام ديا ہے جس کے بعد ايران آئل ريفائنري  کي صنعت ميں بھي خودکفيل ہوگيا ہے-صدر احمدي نژاد نے ايران کے خلاف عائد کي جانے والي يکطرفہ پابنديوں پر کڑي نکتہ چيني کرتے ہوئے کہا کہ اگر چہ پابندي لگانے والوں کو ايران کے تيل کي ضرورت ہے ليکن اس کے باوجود وہ منہ زوري سے باز نہيں آتے ہيں اور ايران پر احسان لادنے کي بھي کوشش کرتے ہيں-

ايران کے وزير پيٹروليم رستم قاسمي نے بھي کہا کہ ايراني ماہرين نے اپني انتھک محنت  کے ذريعے پابنديوں کو بے اثر بناديا ہے،انہوں نے کہا کہ ايران پر پابنديوں کے معاملے ميں اصل ناکامي سامراجي طاقتوں اور پابندي لگانے والوں کو ہوئي ہے- انہوں نے کہا کہ ان ملکوں کي اقتصادي صورتحال دن بدن بد سے بدتر ہوتي جارہي ہے،اسلامي جمہوريہ ايران کے پاس  تيل کے بارہ في صد اور گيس کے سترہ في صد ذخائر موجود ہيں اور ايران دنيا ميں توانائي فراہم کرنے والا ايک اہم ملک شمار ہوتا ہے-اس وقت ايران ميں خام تيل کي پيداوار  چاليس لاکھ بيرل يوميہ جبکہ گيس  کي پيداوار چھے سو ملين کيوبک مٹر کے قريب ہے-پروگرام کے مطابق ايران خام تيل کي پيداوار ميں  باون لاکھ بيرل يوميہ اور گيس کي پيداوار  ايک ارب کيوبک ميٹر يوميہ تک پہنچانا چاہتا ہے-

.....

/169